غزل ۔ برائے نقد و نظر

16 جولائی 2017

کانٹے اسی کے توڑئیے، نشتر میں ڈھالئے
خونِ رگِ گلاب سے خوشبو نکالئے
حیراں تو اس لئے ہوں، مرے کس گناہ پر
نفرت نے دل میں آپ کے ڈیرے جما لئے
طاقت کے بل پہ آپ کی شہرت بہت ہوئی
کمزوریوں کو میری بھی، لیجے اچھالئے
مجھ پر تو میری جان بھی بوجھل ہے ان دنوں
تحفے دئے تھے آپ نے جو سب سنبھالئے
دل بجھ گیا تو آنکھیں بھی روشن نہیں رہیں
اب تو غموں کی آنچ پہ کچھ اشک ڈھالئے
اس بھول پن پہ آپ کے، آسیؔ جی کیا کہیں
یاروں کے اعتماد پہ دشمن گنوا لئے
اشعار کی تقطیع
تبصرے