غزل: ردیف.. ""نہیں دیکھی جاتی...""

16 جولائی 2017

دلِ بیمار کی حالت نہیں دیکھی جاتی
شدّ تِ غم کی یہ صورت نہیں دیکھی جاتی
مثلِ عُنّاب یہ پلکوں سے ٹپکتے غنچے
اپنے خوابوں کی یوں ہجرت نہیں دیکھی جاتی
جل اٹھیں جب بھی سرِ شام یہ یادوں کے دِیئے
پھر در و بام پہ وحشت نہیں دیکھی جاتی
جس کی دل ایک جھلک دیکھ کے بیتاب ہوا
اس کی صورت دَمِ رُخصت نہیں دیکھی جاتی
ترچھے ابرو کی کماں ، تیکھی نگاہوں کی تپش
شمسِ تاباں کی یہ حدّت نہیں دیکھی جاتی
عشق کو زیب ہیں نجمی ہاں ، یہی دار و رسن
سر ہو ، دستار ہو ، قیمت نہیں دیکھی جاتی
اشعار کی تقطیع
تبصرے