غزل

16 جولائی 2017

جب سے ہے دعا کو گنوا دیا
تب سے ہے خدا کو بھلا دیا
میں خرد کی رہ پر نکل پڑا
جب جنوں نے در سے اٹھا دیا
صبح کو لیے جا رہی ہوں میں
گُل کو یہ صبا نے سنا دیا
جُز فراق کچھ حُسن میں نہیں
دل کو لو وفا نے بتا دیا
(ق)
میری ماں نے مہنگا کہا مجھے
میرے باپ نے سو بنا دیا
جو جواز تھے ہست کا، انھیں
ہاے تُو نے حاتمؔ ہے کیا دیا؟
اشعار کی تقطیع
تبصرے