دو شعر

15 جولائی 2017

ہم اک بوسیدہ کشتی پر سفر کرنے چلے ہیں
غرور اے موج اےقلزم بے اثر کرنے چلے ہیں
یہ دل کی آ رزو حرص او ہوا لالچ تمنا
سبھی کو آج پھر ہم در بدر کرنے چلے ہیں
اشعار کی تقطیع
تبصرے