میری شاعری

آپ کی شائع شدہ شاعری

اس سیکشن میں اپنی شاعری کیسے شائع کریں؟

#موزوں محبت

29 جون 2015


وہ تو دل بھی مرا اب دل نہیں ہے
جو محبت کے ہی قابل نہیں ہے
#موزوں خواب میں روبرو ہے تو جاناں

29 جون 2015


خواب میں روبرو ہے تُو جاناں
یا کوئی اور' ہو بہو 'جاناں
''تو'' تصور میں جب بھی آیا ہے
آنکھ کرنے لگی وضو جاناں
مزید دکھائیں
#موزوں اسے میرے احساس ہی سے ہے نفرت

29 جون 2015


اسے میرے احساس ہی سے ہے نفرت
بجھا چاہتا ہے چراغِ محبت
بھروسہ کسی پر بھی ہوتا نہیں ہے
قرابت سے ہونے لگی ہے جو وحشت
مزید دکھائیں
#موزوں گیت

28 جون 2015


میں متوالا سا پنچھی
میں البیلا سا پنچھی
کسو دکھ سمے گوری
تجھے انگ گائوں گا
مزید دکھائیں
#موزوں شعر

28 جون 2015


مجھے بھی آتا ہے بانکپن میں سبھی اشاروں کو جان لینا
یہ تیری فطرت تھی میرے دشمن کی ساری باتوں کو مان لینا
#موزوں اقبال

28 جون 2015


منور سینہ روشن فکر اک مردِ سحر انگیز
مثالِ برقِ گردوں ہر ادائے تند و شوخ و تیز
سخن' جوئے رواں موتی کی' نورِ کہکشاں جیسا
بہائے لفظ و معنی جامِ جم نے دولتِ پرویز
مزید دکھائیں
#موزوں بیت

28 جون 2015


میں اب زندہ رہوں گا تا قیامت
کہ مجھ کو شعر کہنا آگیا ہے
#موزوں غزل

27 جون 2015


دیکھ کر میرے آشیانے کو
دوڑ کر آئے سب جلانے کو
بات حق کی کوئی نہیں کرتا
جانے کیا ہو گیا زمانے کو
مزید دکھائیں
#موزوں خواب میں روبرو تھا تُو جاناں

27 جون 2015


خواب میں روبرو تھا تُو جاناں
یا کوئی اور' ہو بہو 'جاناں
''تو'' تصور میں جب بھی آیا ہے
آنکھ کرنے لگی وضو جاناں
مزید دکھائیں
#موزوں غزل

27 جون 2015


تجھے مٹی نہیں ملتی مجھے کتبہ نہیں ملتا
مری میت زمیں پر ہے ، کوئی کاندھا نہیں ملتا
ابھی کچھ کہنے سننے کو بہت الفاظ باقی ہیں
نہ جانے کیوں زباں کو پھر مرا لہجہ نہیں ملتا
مزید دکھائیں
#موزوں وصال و دید

27 جون 2015


وصال و دید پر فانی نہ اترا
یہ عرصہ مختصر ہے سوچ لینا
#موزوں نوشہرہ

27 جون 2015


بہت بے ضیا ہے قمر آج، شاید
نقاب اس نے رخ سے ہٹائی ہوئی ہے
#موزوں دل زخم گنتے گنتے وحشی سا ہوگیا ہے

27 جون 2015


دل زخم گنتے گنتے وحشی سا ہو گیا ہے
اس زندگی نے مجھ کو اتنا تھکا دیا ہے ۔۔۔
تھا قرض جاں پر اسکی جو واجب الادا ہے
میں کیا گلہ کروں اب وہ دور جا بسا ہے
مزید دکھائیں
#موزوں ایک شعر

27 جون 2015


زندگی تو زہر کا اک پیالہ ہے
مار شہرت نے مجھے تو ڈالا ہے
#موزوں شاکر شجاع آبادی کی مشہور نظم کا منظوم ترجمہ ( کچھ لفظی تصرفات کے ساتھ ) از حمزہ ہاشمی

27 جون 2015


ابھرتے فکر کے سورج کو ڈھلتے شام ہو جائے
خیالوں میں سکوں ہی ڈھونڈتے اب شام ہوجائے
کبھی تو دکھ بھی ٹل جائیں گے شاید سکھ بھی پائیں گے
پلا خالی خیالوں کے پکاتے شام ہو جائے
مزید دکھائیں
#موزوں غزل

27 جون 2015


پھر ہوا یوں کہ کوئی جدا ہو گیا
درد اتنا ملا سب فنا ہو گیا
اشک کھویا گیا اب تو نیندیں گئیں
دیکھتے دیکھتے کیا سے کیا ہو گیا
مزید دکھائیں
#موزوں خاک کا پُتلا

27 جون 2015


میں فقط خاک کا ہوں اک پُتلا
بٹ گیا ہوں جو کتنے حصّوں میں
#موزوں شعر

27 جون 2015


بہت مغرور ہو جاناں بہت ہی خوبصورت ہو
مگر میری طرح تم بھی فقط مٹّی کی مورت ہو