میری شاعری

آپ کی شائع شدہ شاعری

اس سیکشن میں اپنی شاعری کیسے شائع کریں؟

#موزوں دِل

28 اپریل 2015


آج کیا عَجب دیکھو
دِل سوال کرتا ہے
سوچتا ہے کیوں اِتنا
کیوں خیال کرتا ہے
مزید دکھائیں
#موزوں قطعہ

28 اپریل 2015


چمک رہا ہے جو آنکھوں میں۔۔ روشنی بن کر
دھڑک رہا ہے وہ ہی دل میں ۔۔زندگی بن کر
وہ جس کے فیض سے کلیاں دلوں کی کھلتی ہیں
اُسی کی یاد تڑپتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔بے کلی بن کر
#موزوں انتظار

28 اپریل 2015


ایسے وہ گئے کہ پھر یہ آنکھیں
پتھر ہو گئی ہیں راستوں میں
#موزوں غزل

28 اپریل 2015


دعا حسب ضرورت مانگ لیجیے
عبادت ہی میں حاجت مانگ لیجیے
ملے دولت تو الجھن ساتھ ہوگی
یہ دانش ہے قناعت مانگ لیجیے
مزید دکھائیں
#موزوں الجھن

28 اپریل 2015


فرق ہے موت اور اس زندگی میں کیا
کچھ بتائو تو کیوں اکتا رہا ہوں میں
دل نہیں مانتا تیری جدائی کو
اک عمر سے اسے سمجھا رہا ہوں میں
#موزوں سکوت

28 اپریل 2015


میں ہوں سکوتِ شب کی طرح ثانی
بولوں بھی تو سنائی نہیں دیتا
#موزوں بازگشت

28 اپریل 2015


جاہلوں میں تھا شمار شاہ کے اسیر تھے
لوگ کیوں یہ شہر کے لکیر کے فقیر تھے
#موزوں غزل

27 اپریل 2015


دعا ہوگی ، دوا کے بعد ہوگی
شفا یابی جفا کے بعد ہوگی
یہی بہتر ہے چادر اوڑھ لیجیے
عبادت تو حیا کے بعد ہوگی
مزید دکھائیں
#موزوں حسن کی گر زلف میں وہ خم نہیں

27 اپریل 2015


حسن کی گر زلف میں وہ خم نہیں
عشق کے جذبات میں بھی دم نہیں
مٹی میری ذات کی زرخیز ہے
چشم ساقی میں ہی ویسا نم نہیں
مزید دکھائیں
#موزوں ا

27 اپریل 2015


فاعلاتن فاعلن فاعلاتن فاعلن
عشق سے کھلنے لگے ہر سو گلہائے سخن
#موزوں ایک شعر

26 اپریل 2015


وہ جس کی محبت میں گرفتار ہوا ہے
آزاد ہے اس کو کسی سے پیار ہوا ہے
#موزوں ایک شعر

26 اپریل 2015


وہ جس کی محبت میں گرفتار ہوا ہے
آزاد منش کو کسی سے پیار ہوا ہے
#موزوں غزل

24 اپریل 2015


یہ میں نے کسے دل کے اندر بسایا
مجھے آ رہی ہے جدا کوئی خوشبو
#موزوں شعر

24 اپریل 2015


وہ میرے ساتھ ہے گویا وہ میرے پاس ہے اب بھی
میں خود سے بات کرتا ہوں تو اُس سے بات کرتا ہوں
#موزوں قید

24 اپریل 2015


یوں نکل بھاگی میرے جسم سے روح
جیسے یہ کوئی قید خانہ ہو
#موزوں غزل

23 اپریل 2015


چلتا رہا وہ وقت کی رفتار کی طرح
چاہا تھا ہم نے روکیں اسے یار کی طرح
وہ یہ کہیں کہ جانِ تمنا تمھی تو ہو
سمجھیں عدو مگر ہمیں آزار کی طرح
مزید دکھائیں
#موزوں غزل

23 اپریل 2015


ہے حقیقت، نہیں سراب ہے وہ
آنکھ کھولو تو آفتاب ہے وہ
ماں کی آنکھوں میں اشک روشن ہیں
اور کہتا ہے کامیاب ہے وہ
مزید دکھائیں
#موزوں غزل

23 اپریل 2015


چند صفحے کی بس کتاب ہے وہ
وہ جو کہتا ہے بے حساب ہے وہ
کفر کی آنکھ میں چبھن کا سبب
میری داڑھی ترا حجاب ہے وہ
مزید دکھائیں