میری شاعری

آپ کی شائع شدہ شاعری

اس سیکشن میں اپنی شاعری کیسے شائع کریں؟

#موزوں ٹوٹا تارہ

20 اکتوبر 2015


میں کہ ایسا راز ہوں جو خود پہ بھی کُھلتا نہیں
اور وہ چاہے مجھے سارے کا سارا دیکھنا
دید کے قابل نہیں ہم اک نظر تو دیکھئے
سُنتے ہیں اَچّھا شَگُن ہے ٹُوٹا تارہ دیکھنا
#موزوں (غزل) نہ آیا ترس آزمانے سے پہلے

20 اکتوبر 2015


نہ آیا ترس آزمانے سے پہلے
ذرا بھی نہ سوچا بھلانے سے پہلے
جو اشکوں کے گرنے سے ڈرتی تھی بے حد
اسے تھامتے تم رلانے سے پہلے
مزید دکھائیں
#موزوں نظریں

20 اکتوبر 2015


جاتے جاتے نہ یوں چُرا نظریں
وقتِ دیدار ہے ملا نظریں
مرتے جاتے ہیں دیکھ کر تم کو
اہلِ دل سے ذرا بچا نظریں
مزید دکھائیں
#موزوں غزل

20 اکتوبر 2015


گزر چکے گی شبِ غم تو پھر سحر ہو گی
کبھی تو آمدِ جاناں مرے بھی گھر ہو گی
مری ہی رُوح مرے جسم میں نہیں شامل
خُدا ہی جانے محبّت کے کس نگر ہو گی
مزید دکھائیں
#موزوں نہ آیا ترس آزمانے سے پہلے

20 اکتوبر 2015


نہ آیا ترس آزمانے سے پہلے
ذرا بھر نہ سوچا بھلانے سے پہلے
جو اشکوں کے گرنے سے ڈرتی تھی بے حد
اسے تھامتے تم رلانے سے پہلے
مزید دکھائیں
#موزوں منظر

20 اکتوبر 2015


عشق میں تو عین ممکن ہے کہ ہو جی کا زیاں
کیا منافع دیکھنا ، پھر کیا خسارہ دیکھنا
ہو چلا ہم کو یقین ، اب جی نہ پائیں گے مزید
پھر کوئی منظر سمانا ، کیا دوبارہ دیکھنا
#موزوں شاعر اور مُوذی

19 اکتوبر 2015


تُم شاعروں سے گُفتگُو کا فن نہیں رکھتے
ہم لوگ مقابِل کوئی چِلمن نہیں رکھتے
لگتا ہے گریبان گُلوں سا ہے دُریدہ
بُو اور ہوا کے بیٖچ میں اڑچن نہیں رکھتے
مزید دکھائیں
#موزوں غزل

19 اکتوبر 2015


میری حالت بدل نہیں سکتی
شامِ غم کیونکہ ڈھل نہیں سکتی
احترامِ اُصولِ عشق سے اب
بات منہ سے نکل نہیں سکتی
مزید دکھائیں
#موزوں مرثیہ امام حسین

19 اکتوبر 2015


دشت میں جب سے ترا نقشِ کفِ پا دیکھا
ہم نے دریا لہو ، روتا ہوا صحرا دیکھا
آبِ دجلہ سے لے کر سوکھ گئے نیل و فرات
چشمہ جب پیاس کا ہونٹوں پہ ابلتا دیکھا
مزید دکھائیں
#موزوں سلام (مرثیہ امام حسین رض)

18 اکتوبر 2015


دشت میں جب سے ترا نقشِ کفِ پا دیکھا
ہم نے دریا لہو ، روتا ہوا صحرا دیکھا
آبِ دجلہ سے لے کر سوکھ گئے نیل و فرات
چشمہ جب پیاس کا ہونٹوں پہ ابلتا دیکھا
مزید دکھائیں
#موزوں عمر ساری گنوا کر سیکھ جائیں تو بھی سستا ہے

18 اکتوبر 2015


عمر ساری گنوا کر سیکھ جائیں تو بھی سستا ہے
ہے مخلص جو خوشی دے کر کسی کو خود تڑپتا ہے
ہر اک ذرہ ہماری ذات کا حیراں سحر میں ہے
تمہارے لب پہ پھیلی ہے ہنسی امرت چھلکتا ہے
مزید دکھائیں
#موزوں قطعہ

18 اکتوبر 2015


وفا کے بدلے جفا ملی ہے ستم ملا ہے کرم کے بدلے
کہ ہم نے اس بھولے پن میں اپنے بہت ہی رنج و الم سہے ہیں
سوال جیسا جواب ویسا ہمارا اس میں قصور کیا ہے
سلوک جو جیسا کر رہا ہے صلہ بھی اب ویسا دے رہے ہیں
#موزوں پیاری بٹیا

18 اکتوبر 2015


اچھلتی پھدکتی یہ پیاری سی بٹیا
یہ نازک بدن میری پیاری سی بٹیا
ہمیشہ کبھی جب مرے پاس آئی
مجھے کچھ پڑھا دو یہی ہے دہائی
مزید دکھائیں
#موزوں پیاری سی بٹیا

18 اکتوبر 2015


اچھلتی پھدکتی یہ پیاری سی بٹیا
یہ نازک بدن میری پیاری سی بٹیا
ہمیشہ کبھی جب مرے پاس آئی
مجھے کچھ پڑھا دو یہی ہے دہائی
مزید دکھائیں
#موزوں دل کی حالت بیاں نہیں ہوتی

17 اکتوبر 2015


دل کی حالت بیاں نہیں ہوتی
خا مُشی جب زباں نہیں ہوتی
حرفِ حسرت ہے تُم نے کیا سمجھا
زندگی داستاں نہیں ہوتی
مزید دکھائیں
#موزوں وہ لڑی ٹوٹ گئی

16 اکتوبر 2015


وہ لڑی ٹوٹ گئی جس سے جڑی تھی ملت
خاک مَلتی ہوئی چہرے پہ ملی تھی ظلمت
اب تو یہ قوم ہوئی علم و ہنر سے مفلس
دل میں حسرت ہے کہ پھر اس کو ملے یہ دولت
مزید دکھائیں
#موزوں اب جرم کرے کوئی سزا پائے کوئی ہے

16 اکتوبر 2015


ہر دور میں اس جرم کو دہرائے کوئی ہے
اب جرم کرے کوئی سزا پائے کوئی ہے
آقا کے نواسے نے کہاں جنگ تھی چاہی
بچوں کو کبھی جنگ میں لے جائے کوئی ہے
مزید دکھائیں
#موزوں شہیدِ کربلا

16 اکتوبر 2015


آتی ہے کربلا سے یہی آج بھی صدا
مولا علیؑ کے لالؑ کا دو جگ میں ہو بھلا
ہو کے شہید جسؑ نے لیا دینِ حق بچا
راہِ خدا میں اپنا سبھی کچھ دیا لٹا
مزید دکھائیں