میری شاعری

آپ کی شائع شدہ شاعری

اس سیکشن میں اپنی شاعری کیسے شائع کریں؟

#موزوں زندگی کو اس طرح سے

17 نومبر 2017


زندگی کو اس طرح سے ہم نے دیکھا ہی نہ تھا
کیا ہوا کیا ہو گا آگے ہم نے سوچا ہی نہ تھا
پانیوں کے قرب سے ہم پہ کھلا ہے راز یہ
بحر بھی پیاسے تھے قاسم صرف صحرا ہی نہ تھا
#موزوں شناسائی

17 نومبر 2017


جسے دنیا کی پروا ہو وہ عاشق بن نہیں سکتا
جو رسوائی سے ڈرتا ہو وہ عاشق بن نہیں سکتا
نہ گر کثرت سے مرتا ہو وہ عاشق بن نہیں سکتا
جو بن سوچے نہ جلتا ہو وہ عاشق بن نہیں سکتا
مزید دکھائیں
#موزوں گوماٹی گلی بشال نگر کاٹھمانڈو نیپال

17 نومبر 2017


ہم رندِ بلا نوش ہیں توبہ نہیں کرتے
پر مانا کہ ہم کام یہ اچھا نہیں کرتے
پیمان شکن کہنے لگے ہیں مجھے کافر
کچھ لوگ ہیں وعدہ کبھی ایفا نہیں کرتے
مزید دکھائیں
#موزوں غزل

17 نومبر 2017


سَہا نہ جائے گا اَب اَور یہ سِتم ہَم سے
چَھلکنے والے ہیں پَیمانے شِدّتِ غَم سے
ہے کون رَقص میں پائل پہن کےدَھڑکن کی
نَوائے دَرد اُبھرتی ہے اِس کی چَھم چَھم سے
مزید دکھائیں
#موزوں نعت

17 نومبر 2017


مدینے کے سفر میں اب یہ احقر بھی روانا ہے
مری خواہش یہی ہے بس مجھےواپس نہ آنا ہے
دکھے گا جس گھڑی مجھ کو وہ پیارا گنبدِ خضراء
کروں گا رقص مستی میں کہ رحمت سے نہانا ہے
مزید دکھائیں
#موزوں منقبت

17 نومبر 2017


جب دل حالات سے گھبرائے
جب چھا جائیں غم کے سائے
جب خاموشی کا پہرا ہو
ہر سمت اندھیرا گہرا ہو
مزید دکھائیں
#موزوں قطعہ

17 نومبر 2017


کب کر سکا ہے ہم سری کوئی بتول کی
بیٹی ہے ایک بس یہی پیارے رسول کی
جس کو بھی آگ لگتی ہے عظمیٰ لگا کرے
اک بات بس یہی تو ہے حق کی اصول کی
#موزوں اوکاڑہ پاکستان

17 نومبر 2017


ان کے کوچے سے ہم اگر گذرے
سسکیاں لیتے چشم تر گذرے
جس نے چین و سکون چھینا ہے
کھوج میں اسکی دربدر گذرے
مزید دکھائیں
#موزوں اوکاڑہ پاکستان

17 نومبر 2017


ان کے کوچے سے ہم اگر گذرے
سسکیاں لیتے چشم تر گذرے
جس نے چین و سکون چھینا ہے
کھوج میں اسکی دربدر گذرے
مزید دکھائیں
#موزوں غزل

17 نومبر 2017


سنہری دھوپ سے چہرہ نکھار لیتی ہوں
اداسیوں میں بھی خود کو سنوار لیتی ہوں
مِرے وجود کے اندر ہے اِک قدیم مکان
جہاں سے میں یہ اداسی ادھار لیتی ہوں
مزید دکھائیں
#موزوں سائنان میں کہی گئی غزل

16 نومبر 2017


جوشِ الفت میں کریں ہجر کے مارے کیا کیا
ہو رہے ہیں تری چاہت میں نظارے کیا کیا
ان کی نظروں سے ہوئے ہم کو اشارے کیا کیا
جان و دل ان پہ فدا کر دیا! ہارے کیا کیا
مزید دکھائیں
#موزوں احساس

16 نومبر 2017


وہ پاس ہو کر بھی میرے پاس نہیں ہوتا
میرے تو نا ہونے کا بھی احساس نہیں ہوتا
دیکھے ہی بنا اُس کو میں تو جی نہیں سکتا
وہ میرے بنا بھی تو اداس نہیں ہوتا
مزید دکھائیں
#موزوں آج کرلیتا ہوں جو سنوری سنواری باتیں

16 نومبر 2017


غزل
ابنِ مفتی
دن نکلتے ہی جو چلتی تھیں ہماری باتیں
شام ڈھل جاتی پے کر پاتے نہ ساری باتیں
مزید دکھائیں
#موزوں غزل

16 نومبر 2017


اس کی باتیں ویسے لا یانی بہت ہے
لہجے میں پر اس کے طغیانی بہت ہے
وقت کل اس کی شرارت چھین لیگا
آج اس بچّے میں شیطانی بہت ہے
مزید دکھائیں
#موزوں مزاح

16 نومبر 2017


دل میں اک اضطراب سا کچھ ہے
کوئی خانہ خراب سا کچھ ہے
منہ کا بھی ذائقہ عجیب سا ہے
کوئی کڑوا لعاب سا کچھ ہے
مزید دکھائیں
#موزوں خواب

16 نومبر 2017


اضطرابِ الفت ہو لوٹ کیوں نہیں جاتے
آنکھوں کے ادھورے خواب ٹوٹ کیوں نہیں جاتے
ہم نے بارہاں کوشش کی ترے تعلق کی
درد فکر کا جالے چھوٹ کیوں نہیں جاتے
#موزوں خواب

16 نومبر 2017


اضطرابِ الفت ہو لوٹ کیوں نہیں جاتے
آنکھوں کے ادھورے خواب ٹوٹ کیوں نہیں جاتے
ہم نے بارہاں کوشش کی ترے تعلق کی
درد فکر کا جالا چھوٹ کیوں نہیں جاتے
#موزوں بچھڑکے یار سے ملنے کی کوئی آس نہیں

15 نومبر 2017


بچھڑکے یار سے ملنے کی کوئی آس نہیں
دل آئنہ وہ بنا جس میں انعکاس نہیں
ضیا کے واسطے ہے چاندنی کی دولت پاس
چراغ بجھنے پہ بھی گھر مرا اداس نہیں
مزید دکھائیں