کلام صنف
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے غزل
ہستی اپنی حباب کی سی ہے غزل
عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا غزل
میرے سنگِ مزار پر فرہاد غزل
کیا میں بھی پریشانیِ خاطر سے قریں تھا غزل
شبِ ہجر میں کم تظلّم کیا غزل
لوگ بہت پوچھا کرتے ہیں کیا کہیے میاں کیا ہے عشق غزل
جی میں ہے یادِ رخ و زلفِ سیہ فام بہت غزل
ہو آدمی اے چرخ ترکِ گردشِ ایّام کر غزل
پل میں جہاں کو دیکھتے میرے ڈبو چکا غزل
کیا مصیبت زدہ دل مائلِ آزار نہ تھا غزل
کیا دن تھے وہ کہ یاں بھی دلِ آرمیدہ تھا غزل
ارض و سما میں عشق ہے ساری، چاروں اور بھرا ہے عشق غزل
آئی ہے اُس کے کُوچے سے ہوکر صبا کُچھ اور غزل
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا غزل
نکلے چشمہ جو کوئی جوشِ زناں پانی کا غزل
دیوانگی میں مجنوں میرے حضور کیا تھا غزل
ایسی گلی اک شہرِ اسلام نہیں رکھتا غزل
عمر بھر ہم رہے شرابی سے غزل
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں غزل
کیا کام کیا ہم نے دل یوں نہ لگانا تھا غزل
سخن مشتاق ہے عالم ہمارا غزل
گل کو محبوب ہم قیاس کیا غزل
مارا زمیں میں گاڑا تب اس کو صبر آیا غزل
وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہو گیا غزل
خواب میں تو نظر جمال پڑا غزل
مفت آبروئے زاہدِ علامہ لے گیا غزل
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا غزل
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا غزل