ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول​ (نظم)
آج پھر درد و غم کے دھاگے میں​
ہم پرو کر ترے خیال کے پھول​
ترکِ الفت کے دشت سے چن کر​
آشنائی کے ماہ و سال کے پھول​
​تیری دہلیز پر سجا آئے​
پھر تری یاد پر چڑھا آئے​
​باندھ کر آرزو کے پلے میں​
ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول​
اشعار کی تقطیع
تبصرے