ہم کافروں کی مشقِ سُخَن ہائے گُفتَنی (غزل)
ہم کافروں کی مشقِ سُخَن ہائے گُفتَنی
اُس مرحلے پہ آئی کہ اِلہام ہو گئی
دُنیا کی بےاُصول عداوت تو دیکھئے
ہم بُوالہوس بنے تو وفا عام ہو گئی
کل رات، اُس کے اَور مِرے ہونٹوں میں تیرا عکس
اَیسے پڑا کہ رات تِرے نام ہو گئی
اشعار کی تقطیع
تبصرے