مُوئے مِژگاں سے تِرے سینکڑوں مرجاتے ہیں (غزل)
مُوئے مِژگاں سے تِرے سینکڑوں مرجاتے ہیں
یہی نشتر تو رگِ جاں میں اُتر جاتے ہیں
حرم و دیر ہیں عُشاق کے مُشتاق مگر
تیرے کوُچے سے اِدھر یہ نہ اُدھر جاتے ہیں
کوچۂ یار میں اوّل تو گُزر مُشکل ہے
جو گُزرتے ہیں زمانے سے گُزر جاتے ہیں
شمع ساں جلتے ہیں جو بزمِ محبّت میں تِرے
نام روشن وہی آفاق میں کر جاتے ہیں
اثرِ آبِ بَقا خاک رہِ عِشق میں ہے
وہی زندہ ہیں یہاں آکے جو مرجاتے ہیں
تم جو چڑھتے ہو نظر پر تو تمھارے ہوتے
سب حسینانِ جہاں دِل سے اُتر جاتے ہیں
زاہدو تم کو جناں ہم کو درِ یار پَسند
خیر جاؤ تم اُدھر کو ہم اِدھر جاتے ہیں
زندے کیا اہلِ عَدم کو بھی پھنسا لاتے ہیں
زُلف کے بال اگر تابہ کمر جاتے ہیں
کیا اثر نامِ علی میں ہے کہ لیتے ہی امِیر
کام بگڑے ہُوئے جتنے ہیں سنور جاتے ہیں
اشعار کی تقطیع
تبصرے