منتخب کلام

مشہور شعراء کا منتخب کلام بحر و عروض کی مکمل معلومات سمیت

نظم بے تعلقی

رمل مثمن سالم مخبون محذوف / رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع


شام ہوتی ہے سحر ہوتی ہے یہ وقت رواں
جو کبھی سنگ گراں بن کے مرے سر پہ گرا
راہ میں آیا کبھی میری ہمالہ بن کر
جو کبھی عقدہ بنا ایسا کہ حل ہی نہ ہوا
مزید دکھائیں
آزاد نظم کوزہ گر​

متقارب مسدس سالم


کہیں قومیت ہے کہیں ملک و ملّت کی زنجیر ہے
کہیں مذہبیت، کہیں حریت، ہر قدم پر عناں گیر ہے
اگر میں یہ پردہ ہٹا دوں جسے لفظ ماضی سے تعبیر کرتے رہے ہیں
اگر میں حدود زماں و مکاں سب مٹا دوں
مزید دکھائیں
آزاد نظم عہد وفا​

متقارب مثمن اثرم مقبوض محذوف مضاعف


یہی شاخ تم جس کے نیچے کسی کے لیے چشم نم ہو، یہاں اب سے کچھ سال پہلے مجھے ایک چھوٹی سی بچی ملی تھی جسے میں نے آغوش میں لے کے پوچھا تھا بیٹی: یہاں کیوں کھڑی رو رہی ہو، مجھے اپنے بوسیدہ آنچل میں پھولوں کے گہنے دکھا کر وہ کہنے لگی میرا ساتھی، ادھر، اس نے انگلی اٹھا کر بتایا، ادھر اس طرف ہی جدھر اونچے محلوں کے گنبد، ملوں کی سیہ چمنیاں، آسماں کی طرف سر اُٹھائے کھڑی ہیں، یہ کہہ کر گیا ہے کہ میں سونے چاندی کے گہنے ترے واسطے لینے جاتا ہوں رامی!
نظم آواز کے سائے

جمیل مربع سالم


خبر نہیں تم کہاں ہو یارو
ہماری اُفتادِ روز و شب کی
تمہیں خبر مِل سکی کہ تم بھی
رہینِ دستِ خزاں ہو یارو
مزید دکھائیں
غزل واقف نہیں اِس راز سے آشفتہ سراں بھی

ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف


واقف نہیں اِس راز سے آشفتہ سراں بھی
غم تیشۂ فرہاد بھی غم سنگِ گراں بھی
اُس شخص سے وابستہ خموشی بھی بیاں بھی
جو نِشترِ فصّاد بھی ہے اَور رگِ جاں بھی
مزید دکھائیں
غزل ہم کافروں کی مشقِ سُخَن ہائے گُفتَنی

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف


ہم کافروں کی مشقِ سُخَن ہائے گُفتَنی
اُس مرحلے پہ آئی کہ اِلہام ہو گئی
دُنیا کی بےاُصول عداوت تو دیکھئے
ہم بُوالہوس بنے تو وفا عام ہو گئی
مزید دکھائیں
نظم فرشِ نومیدیِ دیدار

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع / رمل مثمن سالم مخبون محذوف


دیکھنے کی تو کسے تاب ہے لیکن اب تک
جب بھی اس راہ سے گزرو تو کسی دکھ کی کسک
ٹوکتی ہے کہ وہ دروازہ کھلا ہے اب بھی
اور اس صحن میں ہر سو یونہی پہلے کی طرح
مزید دکھائیں
نظم جرسِ گُل کی صدا

رمل مثمن سالم مخبون محذوف / رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع


اس ہوس میں کہ پکارے جرسِ گل کی صدا
دشت و صحرا میں صبا پھرتی ہے یوں آوارہ
جس طرح پھرتے ہیں ہم اہلِ جنوں آوارہ
ہم پہ وارفتگیِ ہوش کی تہمت نہ دھرو
مزید دکھائیں
نظم خورشیدِ محشر کی لو

متدارک مثمن سالم


آج کے دن نہ پوچھو مرے دوستو
دور کتنے ہیں خوشیاں منانے کے دن
کھُل کے ہنسنے کے دن گیت گانے کے دن
پیار کرنے کے دن دل لگانے کے دن
مزید دکھائیں
غزل نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی، نہ کسی کو فکر رفو کی ہے

کامل مثمن سالم


نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی، نہ کسی کو فکر رفو کی ہے
نہ کرم ہے ہم پہ حبیب کا، نہ نگاہ ہم پہ عدو کی ہے
صفِ زاہداں ہے تو بے یقیں، صفِ مے کشاں ہے تو بے طلب
نہ وہ صبح ورد و وضو کی ہے، نہ وہ شام جام و سبو کی ہے
مزید دکھائیں
غزل کیے آرزو سے پیماں جو مآل تک نہ پہنچے

رمل مثمن مشکول


کیے آرزو سے پیماں جو مآل تک نہ پہنچے
شب و روزِ آشنائی مہ و سال تک نہ پہنچے
وہ نظر بہم نہ پہنچی کہ محیطِ حسن کرتے
تری دید کے وسیلے خد و خال تک نہ پہنچے
مزید دکھائیں
غزل کس حرف پہ تو نے گوشۂ لب اے جانِ جہاں غماز کیا

بحرِ زمزمہ/ متدارک مثمن مضاعف


کس حرف پہ تو نے گوشۂ لب اے جانِ جہاں غماز کیا
اعلانِ جنوں دل والوں نے اب کے بہ ہزار انداز کیا
سو پیکاں تھے پیوستِ گلو، جب چھیڑی شوق کی لےَ ہم نے
سو تیرِ ترازو تھے دل میں جب ہم نے رقص آغاز کیا
مزید دکھائیں
آزاد نظم غم نہ کر، غم نہ کر

متدارک مثمن سالم


درد تھم جائے گا غم نہ کر، غم نہ کر
یار لوٹ آئیں گے، دل ٹھہر جائے گا، غم نہ کر، غم نہ کر
زخم بھر جائے گا،
غم نہ کر، غم نہ کر
مزید دکھائیں
غزل یہاں سے شہر کو دیکھو تو حلقہ در حلقہ

مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن / مجتث مثمن مخبون محذوف


یہاں سے شہر کو دیکھو تو حلقہ در حلقہ
کھنچی ہے جیل کی صورت ہر ایک سمت فصیل
ہر ایک راہ گزر گردشِ اسیراں ہے
نہ سنگِ میل، نہ منزل، نہ مخلصی کی سبیل
مزید دکھائیں
نظم لہو کا سراغ​

مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن / مجتث مثمن مخبون محذوف


کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ
نہ دست و ناخنِ قاتل نہ آستیں پہ نشاں
نہ سرخیِ لبِ خنجر نہ رنگِ نوکِ سناں
نہ خاک پر کوئی دھبا نہ بام پر کوئی داغ
مزید دکھائیں