منتخب کلام

مشہور شعراء کا منتخب کلام بحر و عروض کی مکمل معلومات سمیت

غزل اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع / خفیف مسدس مخبون محذوف


اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
مزید دکھائیں
غزل اسے ہم نے بہت ڈھونڈھا نہ پایا

ہزج مسدس محذوف


اسے ہم نے بہت ڈھونڈھا نہ پایا
اگر پایا تو کھوج اپنا نہ پایا
مقدّر پر ہی گر سود و زیاں ہے
تو ہم نے یاں نہ کچھ کھویا نہ پایا
مزید دکھائیں
غزل حسرتِ جلوہِ دیدار لئے پھرتی ہے

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع / رمل مثمن سالم مخبون محذوف


حسرتِ جلوہِ دیدار لئے پھرتی ہے
پیشِ روزن پسِ دیوار لئے پھرتی ہے
مالِ مفلس مجھے سمجھا ہے جنوں نے شاید
وحشتِ دل سرِ بازار لئے پھرتی ہے
مزید دکھائیں
غزل بھول گئے تم جن روزوں ہم گھر پہ بلائے جاتے تھے

بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف


بھول گئے تم جن روزوں ہم گھر پہ بلائے جاتے تھے
ہوتے تھے کیا کیا کچھ چرچے عیش منائے جاتے تھے
کیا کیا کچھ تھی خاطرداری کیا کیا پیار کی باتیں تھیں
کس کس ڈھب سے چاہ جتا کر ربط بڑھائے جاتے تھے
مزید دکھائیں
غزل نہ وہ راتیں نہ وہ باتیں نہ وہ قصّہ کہانی ہے

ہزج مثمن سالم


نہ وہ راتیں نہ وہ باتیں نہ وہ قصّہ کہانی ہے
فقط اک ہم ہیں بستر پر پڑے اور ناتوانی ہے
بھلا میں ہاتھ دھو بیٹھوں نہ اپنی جان سے کیوں کر
خرام اس کے میں اک آبِ رواں کی سی روانی ہے
مزید دکھائیں
غزل عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا

بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف


عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا
جی کا جانا ٹہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا
عشق کیا سو دین گیا ایمان گیا اسلام گیا
دل نے ایسا کام کیا کچھ جس سے میں ناکام گیا
مزید دکھائیں
غزل ہستی اپنی حباب کی سی ہے

خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع / خفیف مسدس مخبون محذوف


ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
مزید دکھائیں
غزل پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف


پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں
کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے
مزید دکھائیں
غزل یا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے​

ہزج مثمن اخرب سالم


یا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے​
جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے​

پھر وادیِ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دے​
مزید دکھائیں
غزل انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر ميں جی کو لگانا کيا

بحرِ زمزمہ/ متدارک مثمن مضاعف


انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کا لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا
مزید دکھائیں
غزل شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا

رمل مثمن محذوف


شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا
شعلۂ جوّالہ ہر اک حلقۂ گرداب تھا
واں کرم کو عذرِ بارش تھا عناں گیرِ خرام
گریے سے یاں پنبۂ بالش کفِ سیلاب تھا
مزید دکھائیں
غزل بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا

رمل مثمن محذوف


بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
رکھیو یا رب یہ درِ گنجینہِ گوہر کھلا
شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا
اِس تکلّف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلا
مزید دکھائیں
غزل محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف


محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
یاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا
رنگِ شکستہ صبحِ بہارِ نظارہ ہے
یہ وقت ہے شگفتنِ گل ہائے ناز کا
مزید دکھائیں
غزل سراپا رہنِ عشق و نا گزیرِ الفتِ ہستی

ہزج مثمن سالم


سراپا رہنِ عشق و نا گزیرِ الفتِ ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
بقدرِ ظرف ہے ساقی خمارِ تشنہ کامی بھی
جو تو دریائے مے ہے، تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
غزل نہ ہوگا "یک بیاباں ماندگی" سے ذوق کم میرا

ہزج مثمن سالم


نہ ہوگا "یک بیاباں ماندگی" سے ذوق کم میرا
حبابِ موجۂ رفتار ہے نقشِ قدم میرا
محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
کہ موجِ بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا