منتخب کلام

مشہور شعراء کا منتخب کلام بحر و عروض کی مکمل معلومات سمیت

غزل مرحلے شوق کے دُشوار ہُوا کرتے ہیں

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع / رمل مثمن سالم مخبون محذوف


مرحلے شوق کے دُشوار ہُوا کرتے ہیں
سائے بھی راہ کی دیوار ہُوا کرتے ہیں
وہ جو سچ بولتے رہنے کی قسم کھاتے ہیں
وہ عدالت میں گُنہگار ہُوا کرتے ہیں
مزید دکھائیں
غزل ہر دھڑکن ہیجانی تھی، ہر خاموشی طوفانی تھی

بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف


ہر دھڑکن ہیجانی تھی، ہر خاموشی طوفانی تھی
پھر بھی محبت صرف مسلسل ملنے کی آسانی تھی
جس دن اس سے بات ہوئی تھی اس دن بھی بے کیف تھا میں
جس دن اس کا خط آیا تھا اس دن بھی ویرانی تھی
مزید دکھائیں
قطعہ دل رہینِ غمِ جہاں ہے آج

خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع


دل رہینِ غمِ جہاں ہے آج
ہر نفس تشنۂ فغاں ہے آج
سخت ویراں ہے محفلِ ہستی
اے غمِ دوست تو کہاں ہے آج
غزل ارض و سما میں عشق ہے ساری، چاروں اور بھرا ہے عشق

بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف


ارض و سما میں عشق ہے ساری، چاروں اور بھرا ہے عشق
ہم ہیں جنابِ عشق کے بندے نزدیک اپنے خدا ہے عشق
ظاہر و باطن، اول و آخر، پائیں بالا عشق ہے سب
نور و ظلمت، معنی و صورت سب کچھ آپہی ہوا ہے عشق
مزید دکھائیں
غزل گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا

رمل مثمن محذوف


گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا
مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا
دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں
اُس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا
مزید دکھائیں
غزل عشق تو ایک کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع / رمل مثمن سالم مخبون محذوف


عشق تو ایک کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے
جیسے کوئی درِ دل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے
مزید دکھائیں
رباعی ہم، حُسن پرستی کے قرینوں کے لیے


ہم، حُسن پرستی کے قرینوں کے لیے
ہو جاتے ہیں معتکف مہینوں کے لیے
تصویر بناتے ہیں خود اپنی خاطر
اور شاعری کرتے ہیں حسینوں کے لیے
رباعی لفظوں میں فسانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ


لفظوں میں فسانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ
لمحوں میں زمانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ
تُو زہر ہی دے شراب کہہ کر ساقی
جینے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ
رباعی سبطینِ نبی یعنی حَسن اور حُسین


سبطینِ نبی یعنی حَسن اور حُسین
زہرا و علی کے دونوں نورُ العین
عینک ہے تماشائے دو عالم کے لئے
اے ذوق لگا آنکھوں سے ان کی نعلین
نظم حضرت انسان

ہزج مثمن سالم


جہاں میں دانش و بینش کی ہے کس درجہ ارزانی
کوئی شے چھپ نہیں سکتی کہ یہ عالم ہے نورانی
کوئی دیکھے تو ہے باریک فطرت کا حجاب اتنا
نمایاں ہیں فرشتوں کے تبسم ہائے پنہانی
مزید دکھائیں
نظم اتفاق

مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن / مجتث مثمن مخبون محذوف


دیارِ غیر میں کوئی جہاں نہ اپنا ہو
شدید کرب کی گھڑیاں گزار چکنے پر
کچھ اتفاق ہو ایسا کہ ایک شام کہیں
کسی اِک ایسی جگہ سے ہو یوں ہی میرا گزر
مزید دکھائیں
نظم ڈاسنہ اسٹیشن کا مسافر

ہزج مربع اشتر


کون سا اسٹیشن ہے؟
’ڈاسنہ ہے صاحب جی
آپ کو اُترنا ہے؟‘
’جی نہیں، نہیں ‘ لیکن
مزید دکھائیں
نظم بنتِ لمحات

مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن / مجتث مثمن مخبون محذوف


تمھارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہے
اسے بھلا سا کوئی نام دو وفا کی جگہ
غنیمِ نور کا حملہ کہو اندھیروں پر
دیارِ درد میں آمد کہو مسیحا کی
مزید دکھائیں
نظم بے تعلقی

رمل مثمن سالم مخبون محذوف / رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع


شام ہوتی ہے سحر ہوتی ہے یہ وقت رواں
جو کبھی سنگ گراں بن کے مرے سر پہ گرا
راہ میں آیا کبھی میری ہمالہ بن کر
جو کبھی عقدہ بنا ایسا کہ حل ہی نہ ہوا
مزید دکھائیں
آزاد نظم کوزہ گر​

متقارب مسدس سالم


کہیں قومیت ہے کہیں ملک و ملّت کی زنجیر ہے
کہیں مذہبیت، کہیں حریت، ہر قدم پر عناں گیر ہے
اگر میں یہ پردہ ہٹا دوں جسے لفظ ماضی سے تعبیر کرتے رہے ہیں
اگر میں حدود زماں و مکاں سب مٹا دوں
مزید دکھائیں