منتخب کلام

مشہور شعراء کا منتخب کلام بحر و عروض کی مکمل معلومات سمیت

غزل کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا

مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن / مجتث مثمن مخبون محذوف


کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
جہانِ رزق میں توقیرِ اہلِ حاجت کیا
شِکم کی آگ لئے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
سگِ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
مزید دکھائیں
نظم معترض فرشتوں کی یاد دہانی

ہزج مثمن سالم


الٰہی خلقتِ آدم کے ہیجانی ارادے میں
کروروں ہونکتے فتنے ہیں غلطاں ہم نہ کہتے تھے
تری تسبیح کو حاضر ہے لشکر خانہ زادوں کا
یہ آدم ہے بڑا باغی نرا طاغی کھرا کھوٹا
مزید دکھائیں
نظم لالہ صحرا

ہزج مثمن اخرب سالم


یہ گنبدِ مینائی یہ عالمِ ِتنہائی
مجھ کو تو ڈراتی ہے اس دشت کی پہنائی
بھٹکا ہوا راہی میں بھٹکا ہوا راہی تو
منزل ہے کہاں تیری اے لالۂ صحرائی
مزید دکھائیں
نظم تنہائی

رمل مثمن سالم مخبون محذوف / رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع


پھر کوئی آیا دلِ زار نہیں کوئی نہیں
راہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا
ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار
لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
مزید دکھائیں
رباعی غنچہ


غنچے تری زندگی پہ دل ہلتا ہے
بس ایک تبسم کے لئے کھلتا ہے
غنچے نے کہا کہ اس چمن میں بابا
یہ ایک تبسم بھی کسے ملتا ہے
نظم گل بدنی

ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف


کیا شعلۂ طرّار وہ اللہُ غنی ہے
کیا لرزشِ تابندگیِ سیم تنی ہے
رشکِ مہِ کنعاں ہے غزالِ خُتنی ہے
افشاں ہے کہ آمادگیِ دُر شکنی ہے
مزید دکھائیں
نظم پھر چرخ زن ہے شیب پہ دورِ جواں کی یاد ​

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف


پھر چرخ زن ہے شیب پہ دورِ جواں کی یاد
کاخِ حرم پہ چھائی ہے کوئے بتاں کی یاد
بھیگی تھیں زمزموں کی مسیں جس کی چھاؤں میں
رہ رہ کر آ رہی ہے پھر اُس گلستاں کی یاد
مزید دکھائیں
نظم حی علیٰ خیر العمل

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف


آ ہم نشیں نمازِ صبوحی ادا کریں
خوشبوئے عود میں درِ میخانہ وا کریں
ہاں اٹھ کہ مُہرِ شیشۂ گُل رنگ توڑ کر
انسانیت کو دامِ خرد سے رہا کریں
مزید دکھائیں
نظم ڈوبتے کی پکار

ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف


کل فکر یہ تھی کشورِ اسرار کہاں ہے​
اب ڈھونڈ رہا ہوں کہ درِ یار کہاں ہے​
پھر حُسن کے بازار میں بکنے کو چلا ہوں​
اے جنسِ تدبر کے خریدار کہاں ہے​
مزید دکھائیں
نظم ڈکیتی

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف


بیدار تجربوں کو سلا کر چلی گئی
ہونٹوں سے وہ شراب پلا کر چلی گئی
خس خانۂ دماغ سے اٹھنے لگا دھواں
اِس طرح دل میں آگ لگا کر چلی گئی
مزید دکھائیں
غزل وہ دشمنِ جاں، جان سے پیارا بھی کبھی تھا

ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف


وہ دشمنِ جاں، جان سے پیارا بھی کبھی تھا
اب کس سے کہیں کوئی ہمارا بھی کبھی تھا
اترا ہے رگ و پے میں تو دل کٹ سا گیا ہے
یہ زہرِ جدائی کہ گوارا بھی کبھی تھا
مزید دکھائیں
غزل نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن

مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن / مجتث مثمن مخبون محذوف


نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن
بجھی ہیں درد کی شمعیں کہ سو گیا ہے بدن
سُلگ رہی ہیں نہ جانے کس آنچ سے آنکھیں
نہ آنسوؤں کی طلب ہے نہ رتجگوں کی جلن
مزید دکھائیں
غزل ہم کہ منت کشِ صیاد نہیں ہونے کے

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع / رمل مثمن سالم مخبون محذوف


ہم کہ منت کشِ صیاد نہیں ہونے کے
وہ جو چاہے بھی تو آزاد نہیں ہونے کے
دیکھ آ کر کبھی ان کو بھی جو تیرے ہاتھوں
ایسے اُجڑے ہیں کہ آباد نہیں ہونے کے
مزید دکھائیں
غزل کافر بنوں گا کُفر کا ساماں تو کیجئے

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف


کافر بنوں گا کُفر کا ساماں تو کیجئے
پہلے گھنیری زُلف پریشاں تو کیجئے
اس نازِ ہوش کو کہ ہے موسیٰ پہ طعنہ زن
اک دن نقاب اُلٹ کے پشیماں تو کیجئے
مزید دکھائیں
غزل گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا​

ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف


گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا
یہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا
گلیوں میں پھرا کرتے تھے دو چار دوانے
ہر شخص کا صد چاک لبادہ تو نہیں تھا
مزید دکھائیں