منتخب کلام

مشہور شعراء کا منتخب کلام بحر و عروض کی مکمل معلومات سمیت

غزل دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا

رمل مثمن محذوف


دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا
آپڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ
ہوسکے تو شمع ساں دیجے رگِ گردن جلا
مزید دکھائیں
غزل مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا

رمل مثمن مشکول مسکّن


مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا
القصہ میر کو ہم بے اختیار پایا
احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے
افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا
مزید دکھائیں
غزل مفت آبروئے زاہدِ علامہ لے گیا

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف


مفت آبروئے زاہدِ علامہ لے گیا
اک مغبچہ اتار کے عمامہ لے گیا
داغِ فراق و حسرتِ وصل آرزوئے شوق
میں ساتھ زیر خاک بھی ہنگامہ لے گیا
مزید دکھائیں
غزل خواب میں تو نظر جمال پڑا

خفیف مسدس مخبون محذوف


خواب میں تو نظر جمال پڑا
پر مرے جی ہی کے خیال پڑا
وہ نہانے لگا تو سایۂ زلف
بحر میں تو کہے کہ جال پڑا
مزید دکھائیں
غزل وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہو گیا

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف


وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہو گیا
سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا
الجھاؤ پڑ گیا جو ہمیں اس کے عشق میں
دل سا عزیز جان کا جنجال ہو گیا
مزید دکھائیں
غزل مارا زمیں میں گاڑا تب اس کو صبر آیا

رمل مثمن مشکول مسکّن


مارا زمیں میں گاڑا تب اس کو صبر آیا
اس دل نے ہم کو آخر یوں خاک میں ملایا
اس گل زمیں سے اب تک اگتے ہیں سرو مائل
مستی میں جھکتے جس پر تیرا پڑا ہے سایا
مزید دکھائیں
غزل گل کو محبوب ہم قیاس کیا

خفیف مسدس مخبون محذوف


گل کو محبوب ہم قیاس کیا
فرق نکلا بہت جو باس کیا
دل نے ہم کو مثال آئینہ
ایک عالم کا روشناس کیا
مزید دکھائیں
غزل سخن مشتاق ہے عالم ہمارا

ہزج مسدس محذوف


سخن مشتاق ہے عالم ہمارا
غنیمت ہے جہاں میں دم ہمارا
رہے ہم عالمِ مستی میں اکثر
رہا کچھ اور ہی عالم ہمارا
مزید دکھائیں
غزل کیا کام کیا ہم نے دل یوں نہ لگانا تھا

ہزج مثمن اخرب سالم


کیا کام کیا ہم نے دل یوں نہ لگانا تھا
اس جان کی جوکھوں کو اس وقت نہ جانا تھا
تھا جسم کا ترک اولیٰ ایام میں پیری کے
جاتا تھا چلا ہر دم جامہ بھی پرانا تھا
مزید دکھائیں
غزل جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں

ہزج مثمن اخرب سالم


جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں
اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں
کیا تیر ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھے
جس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں
مزید دکھائیں
غزل عمر بھر ہم رہے شرابی سے

خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع


عمر بھر ہم رہے شرابی سے
دلِ پر خوں کی اک گلابی سے
جی ڈھہا جائے ہے سحر سے آہ
رات گذرے گی کس خرابی سے
مزید دکھائیں
غزل ایسی گلی اک شہرِ اسلام نہیں رکھتا

ہزج مثمن اخرب سالم


ایسی گلی اک شہرِ اسلام نہیں رکھتا
جس کوچے میں وہ بت صد بدنام نہیں رکھتا
آزار نہ دے اپنے کانوں کے تئیں اے گل
آغاز مرے غم کا انجام نہیں رکھتا
مزید دکھائیں
غزل دیوانگی میں مجنوں میرے حضور کیا تھا

رمل مثمن مشکول مسکّن


دیوانگی میں مجنوں میرے حضور کیا تھا
لڑکا سا ان دنوں تھا اس کو شعور کیا تھا
گردن کشی سے اپنی مارے گئے ہم آخر
عاشق اگر ہوئے تھے ناز و غرور کیا تھا
مزید دکھائیں
رباعی افسوس شراب پی رہا ہوں تنہا


افسوس شراب پی رہا ہوں تنہا
غلطاں بہ سبو تمام خونِ فن ہا
ٹھٹھری ہوئی ساغر میں نظر آتی ہے
صہبا رضیَ اللہ تعالیٰ عنہا
غزل یہ دُنیا ذہن کی بازی گری معلُوم ہوتی ہے

ہزج مثمن سالم


یہ دُنیا ذہن کی بازی گری معلُوم ہوتی ہے
یہاں جس شے کو جو سمجھو وہی معلُوم ہوتی ہے
نکلتے ہیں کبھی تو چاندنی سے دُھوپ کے لشکر
کبھی خود دُھوپ نکھری چاندنی معلُوم ہوتی ہے
مزید دکھائیں